اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے فیصلہ ہو گیا اُس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے"
URDU · MAUDUDI
Fellow-prisoners! (This is the interpretation of your dreams): one of you will serve wine to his lord (the king of Egypt). As for the other, he will be crucified and birds will eat of his head. The question concerning what you asked has thus been decided."
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ "اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا" مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا
URDU · MAUDUDI
And Joseph said to the one of the two prisoners who he knew would be set free: "Mention me in your lord's presence." But Satan caused him to forget mentioning this to his lord (the ruler of Egypt) and so Joseph languished in prison for several years.
ایک روز بادشاہ نے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی اے اہل دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو"
URDU · MAUDUDI
And once the king said: "I have dreamt that there are seven fat cows and seven lean cows are devouring them, and there are seven fresh green ears of corn and seven others dry and withered. My nobles! Tell me what is the interpretation of this dream, if you are well-versed in interpretation of dreams."
اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا "میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسفؑ کے پاس) بھیج دیجیے"
URDU · MAUDUDI
Then of the two prisoners, the one who had been set free, now remembered, after the lapse of a long period, what Joseph had said. He said: "I will tell you the interpretation of this dream; just send me (to Joseph in prison)."
اس نے جا کر کہا "یوسفؑ، اے سراپا راستی، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں"
URDU · MAUDUDI
Then he went to Joseph and said to him: "Joseph, O truthfulness incarnate, tell the true meaning of the dream in which seven fat cows are devoured by seven lean ones; and there are seven green ears of corn and seven others dry and withered so that I may return to the people and they may learn."
یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو
URDU · MAUDUDI
Joseph said: "You will cultivate consecutively for seven years. Leave in the ears all that you have harvested except the little out of which you may eat.
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ مگر جب شاہی فرستادہ یوسفؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا "اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے"
URDU · MAUDUDI
The king said: "Bring this man to me." But when the royal messenger came to Joseph he said: "Go back to your master and ask him about the case of the women who had cut their hands. Surely my Lord has full knowledge of their guile."
اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا "تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یوسفؑ کو رجھانے کی کوشش کی تھی؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا "حاشاللہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا" عزیز کی بیوی بول اٹھی "اب حق کھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے"
URDU · MAUDUDI
Thereupon the king asked the women: "What happened when you sought to tempt Joseph?" They said: "Allah forbid! We found no evil in him." The chief's wife said: "Now the truth has come to light. It was I who sought to tempt him. He is indeed truthful."
(یوسفؑ نے کہا) "اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز) یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی، اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا
URDU · MAUDUDI
Joseph said: "I did this so that he [i.e. the chief) may know that I did not betray him in his absence, and that Allah does not allow the design of the treacherous to succeed.
میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"
URDU · MAUDUDI
I do not seek to acquit myself; for surely one's self prompts one to evil except him to whom my Lord may show mercy. Verily my Lord is Ever Forgiving, Most Merciful."
بادشاہ نے کہا "اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں" جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا "اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے"
URDU · MAUDUDI
The king said: "Bring him to me. I will select him exclusively for my own service." So when Joseph spoke to him the king said: "You are now one of established position, fully-trusted by us."
اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسفؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا
URDU · MAUDUDI
Thus did We establish Joseph in the land so that he could settle wherever he pleased. We bestow favour, out of Our Mercy, on whomsoever We please, and We do not cause the reward of those who do good to go to waste.
پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، "اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں
URDU · MAUDUDI
And when he had prepared for them their provisions, Joseph said: "Bring to me your other brother from your father. Do you not see that I give full measure and am most hospitable?
یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں
URDU · MAUDUDI
And Joseph said to his servants: "Put surreptitiously in their packs the goods they had given in exchange for corn." Joseph did so expecting that they would find it when they returned home. Feeling grateful for this generosity, they might be inclined to return to him.
جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں"
URDU · MAUDUDI
When they returned to their father they said: "Father! We have been denied further supply of corn. So send with us our brother that we may bring the supplies. We shall be responsible for his protection."
باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"
URDU · MAUDUDI
The father said: "Shall I trust you with regard to him as I had trusted you earlier with regard to his brother? Allah is the Best Protector and is the Most Merciful."
پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا"
URDU · MAUDUDI
And when they opened their things they found that their goods had been given back to them. Thereupon they cried: "Father! What else would we desire? Look, even our goods have been given back to us, so we shall go now and bring supplies for our family, we shall protect our brother, and bring another camel-load of corn. That additional supply will be easily secured."
ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"
URDU · MAUDUDI
Their father said: "I shall never send him with you until you give me a solemn promise in the name of Allah that you will bring him back to me, unless you yourselves are surrounded." Then after they had given him their solemn promise, he said. "Allah watches over what we have said."
پھر اس نے کہا "میرے بچو، مصر کے دارالسطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے"
URDU · MAUDUDI
And he enjoined them: "My sons! Do not enter the city by one gate; rather enter it by different gates. I can be of no help to you against Allah. Allah's command alone prevails. In Him have I put my trust and in Him should all those who have faith put their trust."
اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی ہاں بس یعقوبؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کر لی بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں
URDU · MAUDUDI
And it so happened that when they entered the city (by many gates) as their father had directed them, this precautionary measure proved ineffective against Allah's will. There was an uneasiness in Jacob's soul which he so tried to remove. Surely he was possessed of knowledge owing to the knowledge that We bestowed upon him. But most people do not know the truth of the matter.
یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں"
URDU · MAUDUDI
When they presented themselves before Joseph, he took his brother aside to himself and said: "Verily I am your own brother Joseph; so do not grieve over the manner they have treated you."
جب یوسفؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا "اے قافلے والو، تم لو گ چور ہو"
URDU · MAUDUDI
Then, while Joseph was having their provisions loaded, he put his drinking-cup in his brother's saddlebag. And then a herald cried: "Travellers, you are thieves."
سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"
URDU · MAUDUDI
The officials said: "We have lost the king's cup." (And their chief added): "He who brings it shall have a camel-load of provisions, I guarantee that."
تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی اِس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے
URDU · MAUDUDI
Then Joseph began searching their bags before searching his own brother's bag. Then he brought forth the drinking-cup from his brother's bag. Thus did We contrive to support Joseph. He had no right, according to the religion of the king (i.e. the law of Egypt), to take his brother, unless Allah so willed. We exalt whomsoever We will over others by several degrees. And above all those who know is the One Who truly knows.
ان بھائیوں نے کہا "یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے" یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ "بڑے ہی برے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے"
URDU · MAUDUDI
They said: "No wonder that he steals for a brother of his stole before." But Joseph kept his reaction to himself without disclosing the truth to them. He merely said to himself: "You are an evil lot. Allah knows well the truth of the accusation that you are making against me (to my face)."
انہوں نے کہا "اے سردار ذی اقتدار (عزیز)، اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں"
URDU · MAUDUDI
They said: "O powerful chief (al-aziz)! His father is an age-stricken man, (and in order that he may not suffer) seize one of us in his stead. We indeed consider you an excellent person."
یوسفؑ نے کہا "پناہ بخدا، دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے"
URDU · MAUDUDI
Joseph said: "Allah forbid that we should seize any except him with whom we found our good. Were we to do so, we would surely be one of the wrong-doers."
جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
URDU · MAUDUDI
Then, when they had despaired of Joseph they went to a corner and counselled together. The eldest of them said: "Do you not know that your father has taken a solemn promise from you in the name of Allah, and you failed in your duty towards Joseph? So I will not depart from this land until my father permits me, or Allah pronounces His judgement in my favour. He is the best of those who judge."