فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ۷۶
تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی اِس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے
Then Joseph began searching their bags before searching his own brother's bag. Then he brought forth the drinking-cup from his brother's bag. Thus did We contrive to support Joseph. He had no right, according to the religion of the king (i.e. the law of Egypt), to take his brother, unless Allah so willed. We exalt whomsoever We will over others by several degrees. And above all those who know is the One Who truly knows.