هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ ۱۱
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے
the fault-finder who goes around slandering,
Parah 29 · Arabic and Urdu
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ ۱۱
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے
the fault-finder who goes around slandering,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ ۱۲
بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے
the hinderer of good, the transgressor, the sinful;
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ ۱۳
اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے
the coarse-grained, and above all mean and ignoble;
اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ ۱۴
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے
(who so acts) simply because he has wealth and sons,
اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۱۵
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں
and whenever Our verses are rehearsed to him, he says: “These are fairy- tales of times gone by.”
سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ ۱۶
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے
Soon shall We brand him on his snout.
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ ۱۷
ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے
We have put them [i.e., the Makkans] to test even as We put to test the owners of the orchard when they vowed that they would gather the fruit of their orchard in the morning,
وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ ۱۸
اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے
without making any allowance (for the will of Allah).
فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ ۱۹
رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی
Thereupon a calamity from your Lord passed over it while they were asleep,
فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ ۲۰
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو
and so by morning the orchard lay as though it had been fully harvested.
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ ۲۱
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا
At daybreak they called out to one another:
اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ ۲۲
کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو
“Hurry to your orchard if you would gather its fruit.”
فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ ۲۳
چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
So off they went, whispering to one another:
اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ ۲۴
کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے
“No destitute person shall enter it today.”
وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ ۲۵
وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں
They went forth early, believing that they had the power (to gather the fruit).
فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ ۲۶
مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں
But as soon as they beheld the orchard, (they cried out): “We have certainly lost the way;
بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۲۷
نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے"
rather, we are utterly ruined.”
قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ ۲۸
اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟"
The best among them said: “Did I not say to you: why do you not give glory to (your Lord)?”
قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۲۹
و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے
They cried out: “Glory be to our Lord! Certainly we were sinners.”
فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ ۳۰
پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا
Then they began to reproach one another.
قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ ۳۱
آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے
They said: “Woe to us! We had indeed transgressed.
عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۳۲
بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"
Maybe our Lord will give us a better orchard in its place; to our Lord do we penitently turn.”
كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ ۳۳
ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے
Such is the chastisement; and the chastisement of the Hereafter is assuredly even greater, if only they knew.
اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۳۴
یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں
Surely the God-fearing shall have Gardens of bliss with their Lord.
اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ ۳۵
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟
What! Shall We treat those who have submitted (to Our command) like those who have acted as criminals?
مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ ۳۶
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟
What is the matter with you? How ill do you judge!
اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ ۳۷
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو
Or do you have a Book wherein you read
اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ ۳۸
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟
that (in the Hereafter) you shall have all that you choose for yourselves?
اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ ۳۹
یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟
Or have We sworn a covenant with you which We are bound to keep till the Day of Resurrection, (a covenant requiring that whatever you ordain for yourselves shall be yours)?
سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ ۴۰
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟
Ask them: “Which of them can guarantee that?
اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ ۴۱
یا پھر اِن کے ٹھیرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اِس کا ذمہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں
Or has something been guaranteed by any of those whom they associate with Allah in His Divinity?” If so, let them bring forth their associates, if they are truthful.
یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ ۴۲
جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے
On the Day when the dreadful calamity will unfold, when people will be summoned to prostrate themselves, and yet they will not be able to prostrate.
خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ ۴۳
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)
Their eyes shall be downcast and ignominy shall overwhelm them. For when they were safe and sound, they were summoned to prostrate themselves, (and they refused).
فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ ۴۴
پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی
So leave Me, (O Prophet), to deal with him who gives the lie to this Discourse. We shall draw them little by little (to their undoing) in a way that they will not know.
وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ ۴۵
میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے
I am giving them a respite. Great is My scheme!
اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ ۴۶
کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟
Or are you asking them for some compensation so that they feel burdened with debt?
اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ ۴۷
کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟
Or do they have any knowledge of the Unseen which they are now writing down?
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ ۴۸
پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا
So bear with patience until the Judgement of your Lord comes, and do not belike the man in the fish (i.e., Jonah) who called out, choking with grief:
لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ ۴۹
اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا
had his Lord not bestowed His favour upon him, he would have been cast upon that barren shore (and would have remained there) in disgrace.
فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۵۰
آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا
But his Lord exalted him, and included him among His righteous servants.